کلبرگی:25؍فروری(ایس اؤ نیوز)امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بھارت دورے سے ہمارے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مودی بھی جب امریکہ کا دورہ کئے تھے تو کیا ہمارے ملک کو فائدہ ہواتھا ؟ ۔ ودھان سبھا میں حزب مخالف لیڈر سدرامیا نے ٹرمپ کے دورے کو لے کر سوال کیا۔
وہ یہاں شہر میں پریس کانفرنس کے ذریعے بات کررہے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر صلاح دیتے ہوئے بھارتی حکومت سے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ در آمد معاملات کو لے کر کوئی معاہدہ نہ کریں۔وہیں انہوں نے کہاکہ 15ویں فائنانس کمیشن نے کرناٹک کے ساتھ ناانصافی کی ہے، امسال 9ہزار کروڑ روپئے کم کئے گئے ہیں۔ اگلے سال 11258کروڑ روپئے کم کئے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے سدرامیا نے پوچھ اکہ وزیر اعلیٰ یڈیورپا اور 25ارکان پارلیمان کیا کررہے ہیں؟ اس سلسلے میں کوئی بھی آواز کیوں نہیں اٹھا رہاہے؟ ۔انہوں نے یاد دلا یا کہ سیلاب کے وقت بھی ہمیں زیادہ معاوضہ نہیں ملا ہے۔
سدرامیانے وزیر اعلیٰ یڈیورپا کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یڈیورپا نے ہمہ جماعتی وفد لے کر نہیں گئے، یڈیورپا مودی اور امیت شاہ سے ڈرتے ہیں، یڈیورپا ایک بہت ہی کمزور وزیر اعلیٰ ہیں۔ اسی وقت انہوں نے عندیہ دیا کہ بی جے پی کے کئی ایک لیڈران پارٹی چھوڑنے کی تیاری میں ہیں۔ بی جے پی میں اقتدار کے لئے خلفشار پیدا ہونے کی بات کہی۔
ایک سوال کے جواب میں سدرامیا نے کہاکہ راہول گاندھی دوبارہ کانگریس کے قومی صدر بنیں۔ اسی طرح بہت جلد کے پی سی سی صدر کا بھی تقرر ہوگا۔